پیسے کے لیے انسان کیا کچھ کر گزرتا یہاں تک اپنے والدین کو بھی دھوکہ دینے سے گریز نہیں کرتا ایسا ہی ایک واقعہ برازیل میں پیش آیا جہاں محض 12 سالہ لڑکی نے گھروالوں سے پیسے لینے کے لیے خود کے اغوا کا جعلی ڈرامہ رچایا۔
برازیل کے شمالی سانتا کیتارینا کے علاقے ایٹائیوپولس میں ایک 12 سالہ لڑکی جس کے بارے میں اس کے پریشان والدین نے اغوا کی اطلاع دی تھی، بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنے ہی خاندان سے پیسے وصول کرنے کے لیے یہ پورا واقعہ خود گھڑا تھا۔
یہ جعلی اغوا کا معاملہ تقریباً رات 1 بجے رپورٹ ہوا جب لڑکی اپنے گھر سے غائب ہو گئی اور اپنے والدین کو پیغامات بھیجنے لگی کہ اسے اغوا کر لیا گیا ہے۔ ان پیغامات میں اس نے دعویٰ کیا کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں اور اغوا کاروں نے اس پر تشدد بھی کیا ہے۔
اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے والدین نے فوراً پولیس سے رابطہ کیا جس کے بعد قریبی شہر مافرہ کی کریمنل انویسٹی گیشن ڈویژن نے لڑکی اور مبینہ اغوا کاروں کی تلاش شروع کر دی۔
تقریباً صبح 11 بجے لڑکی نے دوبارہ اپنے والدین کو پیغامات بھیجے تاہم اس بار اس نے اپنی رہائی کے بدلے تاوان کی رقم مانگی تاکہ ’’اغوا کا‘‘ اسے قتل نہ کریں۔
چند گھنٹوں بعد جب اس کے والدین تاوان کا انتظام کررہے تھے اسی اثنا میں پولیس نے لڑکی کو ایٹائیوپولس کے دیہی علاقے کے ایک گھر سے ڈھونڈ لیا۔
جب خصوصی پولیس اہلکار مبینہ اغوا کاروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے تو وہاں کوئی مجرم موجود نہیں تھا۔ 12 سالہ لڑکی مکمل طور پر محفوظ تھی۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ پوری کہانی صرف اپنے والدین سے پیسے حاصل کرنے کے لیے گھڑی تھی۔
اس سارے معاملے کے بعد لڑکی کو حراست میں لے لیا گیا اور اس پر بھتہ خوری کے مشابہ جرم کا الزام عائد کیا گیا تاہم اتنی کم مجرم کے حوالے سے سزا کا کوئی قانون موجود ہے ابھی تک واضح نہیں ہے۔
یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس اس لیے بھی ہے کہ اس کا’’ماسٹر مائنڈ‘‘ ایک بہت ہی کم عمر بچی تھی۔




















