لاہور کے میو اسپتال کے شعبۂ امراضِ قلب کے سالانہ آڈٹ میں کروڑوں روپے مالیت کے طبی سامان کے ریکارڈ میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 2 کروڑ 23 لاکھ روپے مالیت کے اسٹنٹس اور بیلونز کا ریکارڈ مشکوک قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 13 لاکھ روپے مالیت کے 232 اسٹنٹس ریکارڈ سے غائب پائے گئے، جبکہ ایک کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کے 1,059 بیلونز کی بھی ریکارڈ میں عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
معاملے کی سنگینی کے پیش نظر میو اسپتال کی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی جانب سے 3 جولائی 2026 کو انکوائری کمیٹی کے قیام کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں شعبۂ امراضِ قلب کے ایک رجسٹرار پر مبینہ طور پر اسٹنٹس اور بیلونز کی گمشدگی میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سرکاری طبی سامان مبینہ طور پر نجی اسپتالوں کو فروخت کیا گیا، جبکہ متعلقہ رجسٹرار پر انکوائری پر اثرانداز ہونے اور کارروائی رکوانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
دوسری جانب اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان کا کہنا ہے کہ مبینہ کرپشن بے نقاب کرنے کے بعد انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کے عہدیداروں نے ان پر دباؤ ڈالنے اور نوکری سے نکلوانے کی دھمکیاں بھی دیں۔
ڈاکٹر عبدالمدبر ریحان نے کہا کہ وہ میرٹ، شفافیت اور مریضوں کے مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہر قسم کے دباؤ کا قانونی اور انتظامی سطح پر مقابلہ کریں گے۔
واضح رہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین انکوائری مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔




















