Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سمندروں اور دریاؤں میں آکسیجن تیزی سے کم ہونے لگا، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

آبی پودوں کے گلنے سڑنے کے دوران بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال ہوجاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں آکسیجن کی مقدار تشویش ناک رفتار سے کم ہورہی ہے جس سے آبی حیات اور زمین کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

بین الاقوامی ماہرین کی نئی تحقیق کے مطابق آبی ذخائر میں آکسیجن کی مسلسل کمی ایک بڑے عالمی ماحولیاتی بحران کی صورت اختیار کررہی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے بعض اثرات کئی صدیوں تک باقی رہ سکتے ہیں اور انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافہ، کھادوں اور گندے پانی کے اخراج سے آبی ذخائر میں غذائی اجزا کی زیادتی اور سمندری پانی کی قدرتی گردش میں تبدیلی آکسیجن کی کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

ان عوامل کے باعث آبی پودوں کی غیر معمولی افزائش ہوتی ہے اور ان کے گلنے سڑنے کے دوران بڑی مقدار میں آکسیجن استعمال ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق آکسیجن میں کمی سے ننھے آبی جانداروں سے لے کر بڑی مچھلیوں اور دیگر سمندری جانوروں تک پوری غذائی زنجیر متاثر ہورہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ سمندری جانور بھی خطرے میں ہیں جو سانس لینے کے لیے سطح پر آتے ہیں کیونکہ ان کی خوراک بتدریج ختم یا دوسری جگہ منتقل ہورہی ہے۔

محققین نے زور دیا ہے کہ آبی ذخائر میں آکسیجن کی کمی کو بھی عالمی ماحولیاتی خطرات میں شامل کیا جانا چاہیے۔

محققین مزید کہتے ہیں کہ اگر آلودگی، گندے پانی کے اخراج اور ماحول کو گرم کرنے والے عوامل پر فوری قابو نہ پایا گیا تو آبی حیات، حیاتیاتی تنوع اور موسمی توازن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔