Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چاند پر ممکنہ تباہی کا خطرہ ٹل گیا، امریکی خلائی ادارے کی تازہ رپورٹ جاری

22 دسمبر 2032 کو خلائی چٹان کا چاند سے ٹکرانے کا امکان چار فیصد سے زیادہ تھا۔

امریکی خلائی ادارے نے 2032 میں ایک بڑی خلائی چٹان کے چاند سے ٹکرانے کے خدشے سے متعلق اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی معلومات کے مطابق اب اس تصادم کا کوئی امکان نہیں رہا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2024 میں دریافت ہونے والی تقریباً 200 فٹ چوڑی خلائی چٹان کے بارے میں ابتدائی اندازوں میں امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ 22 دسمبر 2032 کو اس کے چاند سے ٹکرانے کا امکان چار فیصد سے کچھ زیادہ ہوسکتا ہے۔

تاہم تازہ مشاہدات اور مدار کے نئے حساب کے بعد ماہرین نے اس خدشے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ خلائی چٹان چاند سے ٹکراتی تو تقریباً نو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے ہونے والے تصادم کے نتیجے میں چاند کی سطح پر تقریباً 500 فٹ گہرا اور تقریباً 0.6 میل چوڑا گڑھا بن سکتا تھا۔

اس تصادم سے پیدا ہونے والی روشن چمک زمین سے بھی دیکھی جاسکتی تھی اور بعض ماہرین کے مطابق یہ منظر کئی منٹ تک نمایاں رہنے کا امکان تھا۔

تحقیق کے مطابق اس ممکنہ تصادم سے چاند پر درمیانی شدت کا زلزلہ آسکتا تھا جب کہ بڑی مقدار میں ملبہ خلا میں بکھر جاتا جو چاند کے گرد گردش کرنے والے مصنوعی سیاروں کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔

تاہم تازہ مشاہدات کے بعد امریکی اور یورپی خلائی ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ شہابی چٹان اب چاند سے تقریباً 20 ہزار کلومیٹر کے محفوظ فاصلے سے گزرے گی جس کی وجہ سے تصادم کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔

اگرچہ اس پیش رفت پر خلائی دفاع سے وابستہ ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصادم ہوتا تو انہیں چاند پر خلائی چٹان کے اثرات اور خلا میں ملبے کے پھیلاؤ کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کا نادر موقع مل سکتا تھا۔