Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مصنوعی مٹھاس کے دماغ پر اثرات، نئی تحقیق نے کئی سوالات اٹھا دیے

مصنوعی مٹھاس زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں دماغی افعال میں معمولی کمی دیکھی گئی

دنیا بھر میں ذیابیطس میں مبتلا افراد خون میں چینی کی سطح کو توازن میں رکھنے لے لیے مصنوعی مٹھاس کا استعمال کرتے ہیں تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ عام سا عمل ذہنی کو صحت کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔

 ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیلی ٹول، اسپارٹیم سمیت چھ مصنوعی مٹھاس انسانی دماغی زوال کو تیز کر سکتی ہیں تاہم ماہرین نے اس نتیجے کو حتمی قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے تحقیق کے طریقۂ کار پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔

تحقیق برازیل کے سرکاری ملازمین پر کیے گئے طویل مدتی ایلسا مطالعے کے اعداد و شمار پر مبنی ہے جس میں آٹھ برس تک شرکاء کے دماغی افعال کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے آغاز میں شرکاء سے خوراک سے متعلق سوالنامے پُر کروائے گئے جن کی بنیاد پر مصنوعی مٹھاس کے استعمال اور دماغی زوال کے درمیان تعلق کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق مصنوعی مٹھاس زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں دماغی افعال میں معمولی کمی دیکھی گئی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دماغی زوال کی وجہ مصنوعی مٹھاس ہی ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی سے تعلق رکھنے والے دائمی امراض کے ماہر ڈاکٹر جیڈون مائرووٹز کاٹز نے کہا کہ تحقیق میں خوراک کا اندازہ شرکاء کی یادداشت پر مبنی سوالناموں سے لگایا گیا جو حقیقی غذائی عادات کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق زیادہ تر افراد گزشتہ ایک سال کی خوراک درست طور پر یاد نہیں رکھ سکتے، جبکہ تحقیق میں یہ بھی فرض کیا گیا کہ آٹھ برس کے دوران شرکاء کی غذائی عادات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ڈاکٹر کاٹز نے مزید کہا کہ تحقیق میں مختلف اقسام کی مصنوعی مٹھاسوں کو ایک ہی گروہ میں شامل کیا گیا، حالانکہ ان کی کیمیائی ساخت ایک دوسرے سے مختلف ہے اور ان کے ممکنہ حیاتیاتی اثرات بھی یکساں نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے اس امکان کی بھی نشاندہی کی کہ ذیابیطس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد جن میں دماغی زوال کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہوتا ہے، مصنوعی مٹھاس کا استعمال نسبتاً زیادہ کرتے ہوں جس سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے ایک تجزیے میں مصنوعی مٹھاس اور دماغی زوال کے درمیان کوئی تعلق سامنے نہیں آیا جبکہ زیادہ توجہ حاصل کرنے والے تجزیے میں بعض شرکاء کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر خارج کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر کاٹز کے مطابق بدترین صورتِ حال میں بھی یہ تحقیق صرف معمولی ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ میڈیا میں پیش کیے جانے والے بعض دعوے مبالغہ آمیز معلوم ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس پر کئی دہائیوں سے وسیع پیمانے پر تحقیق کی جا چکی ہے اور موجودہ شواہد کے مطابق یہ عموماً محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے بقول، دستیاب اعداد و شمار سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مناسب مقدار میں استعمال کی صورت میں مصنوعی مٹھاس عام چینی کے مقابلے میں بہتر متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں