ریاستِ میکسیکو کے شہر ٹینانسنگو کی میئر نینسی ناپولس پر الزام ہے کہ انہوں نے بلدیاتی خزانے سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پیسو کی مبینہ خردبرد پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے ہی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
31 مئی کو نینسی اور ان کی بہن مبینہ طور پر میئر کی رہائش گاہ کے سامنے اغوا ہوئیں عینی شاہدین کے مطابق تین مسلح افراد نے ناپولیس کو اس وقت اپنی گاڑی میں زبردستی بٹھا لیا جب وہ اپنے گھر کی طرف جا رہی تھیں۔ خوش قسمتی سے موقع پر موجود لوگوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد گشتی پولیس نے میئر کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
کچھ ہی دیر بعد نینسی ایک سنسان سڑک پر مل گئیں جہاں انہوں نے راہگیروں سے اپنے شوہر کو فون کرنے کی درخواست کی تاہم یہ واقعہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد بلدیاتی فنڈز میں مبینہ خردبرد، سیاسی سازش اور جعلی اغوا کے الزامات پر مبنی ایک ملک گیر اسکینڈل سامنے آیا۔
میکسیکو کے تفتیش کاروں نے اگلے تین ماہ تک مبینہ اغوا کاروں کی تلاش اور اس منصوبے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی پولیس نے بالآخر تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا جب نینسی ان کے اہلِ خانہ اور گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تو تحقیقات کے دوران متعدد تضادات سامنے آئے۔

نینسی نے پولیس کو بتایا کہ اغوا کاروں نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے ان کی بات نہ مانی تو انہیں اور ان کے خاندان کو قتل کر دیا جائے گا ان کے مطابق اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے 4 کروڑ (40 ملین) پیسو تاوان طلب کیا اور یہاں تک کہا کہ اگر ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو وہ یہ رقم “شہری کونسل کے وسائل” سے ادا کر دیں۔
نینسی نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے اغوا کاروں کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی تحقیقاتی حکام کے مطابق اغوا کاروں کی جانب سے بلدیاتی خزانے سے تاوان ادا کرنے کا مشورہ غیر معمولی تھا۔
مزید تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ میئر کے شوہر اور ان کے بھائی ہی وہ افراد تھے جنہوں نے اغوا کاروں سے رابطہ کیا اور انہیں یہ ڈرامہ رچانے کے لیے رقم دی۔
استغاثہ کے مطابق منصوبہ یہ تھا کہ بلدیاتی خزانے سے 4 کروڑ پیسو بطور تاوان ادا کیے جائیں تاکہ مبینہ خردبرد کو قانونی جواز دیا جا سکے جس کا الزام خود ناپولیس پر عائد کیا جا رہا ہے۔
استغاثہ کے مطابق اغوا کاروں کے بیانات اس مقدمے کا بنیادی ثبوت ہیں جنہیں دیگر شواہد بھی تقویت دیتے ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ میئر کے شوہر اور ان کے بھائی نے مبینہ اغوا سے پہلے تقریباً 150 مرتبہ اغوا کاروں سے رابطہ کیا تھا دونوں اس وقت لاپتا ہیں اور انہیں مفرور قرار دیا جا رہا ہے ان فون کالز میں سے ایک میں مبینہ طور پر ناپولیس کے شوہر اغوا کاروں کو یہ کام انجام دینے کے لیے 28 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش کرتے ہوئے سنے گئے۔
نینسی نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے انہیں اس مقدمے میں 9 جولائی کو بیان دینے کے لیے طلب کیا گیا ہے تاہم اب تک ان پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔




















