جنوبی کوریا کے ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کو میٹھے کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کا سامنا ہے جبکہ استغاثہ نے عدالت سے اس کے لیے ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے عدالت میں اعتراف کیا کہ اس نے میٹھے کی چند ڈشز کی ٹاپنگ کے طور پر محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں۔ اس کا مؤقف تھا کہ گاہکوں کو پیشگی آگاہ کیا جاتا تھا کہ ڈش میں چیونٹیاں شامل ہیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں میں استعمال کی گئیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہے جس کے باعث ریسٹورنٹ مالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی۔




















