سائنسدانوں کی نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسان اب بھی ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے اور ماحول کے مطابق اپنے جسم میں تبدیلیاں پیدا کررہا ہے۔
خاص طور پر ہمالیائی خطے کے بلند پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں میں ایسے حیاتیاتی تغیرات دیکھے گئے ہیں جو کم آکسیجن والے ماحول میں زندگی کو ممکن بناتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق تبت کی سطح مرتفع اور نیپال کے بلند علاقوں میں رہنے والے افراد ہزاروں سال سے ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہوا میں آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے اور اس کے باوجود یہ لوگ صحت مند انداز میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں آکسیجن کی کمی عام انسانوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے تاہم یہاں کے مقامی افراد کے جسم نے اس ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے تاکہ خون میں آکسیجن کی بہتر ترسیل ممکن ہوسکے۔
ایک طویل تحقیق میں نیپال کی 400 سے زائد خواتین کا مطالعہ کیا گیا جن کی عمر 46 سے 86 سال کے درمیان تھی اور وہ اپنی پوری زندگی بلند علاقوں میں گزار چکی تھیں۔ ان خواتین میں بچوں کی پیدائش کی شرح کا بھی جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ وہ خواتین جن میں آکسیجن کو جسم میں منتقل کرنے کی صلاحیت متوازن اور بہتر تھی تو ان میں بچوں کی پیدائش کی شرح زیادہ پائی گئی۔ ان کے جسم میں خون کی کارکردگی اور آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت بھی بہتر تھی۔
ماہرین کے مطابق ان خواتین میں نہ تو خون بہت گاڑھا تھا اور نہ ہی بہت کمزور بلکہ ایک متوازن کیفیت پائی گئی جس نے دل اور جسم دونوں پر دباؤ کم رکھا اور بہتر صحت کو ممکن بنایا۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ان خواتین کے پھیپھڑوں میں خون کی روانی بہتر تھی اور دل کے بائیں حصے کی ساخت نسبتاً بڑی تھی جو جسم میں آکسیجن کی بہتر ترسیل میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی جسم ماحول کے مطابق مسلسل ارتقاء کے عمل سے گزرتا رہتا ہے اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔
اگرچہ ماہرین نے یہ بھی واضح کیا کہ سماجی عوامل جیسے کم عمری میں شادی اور طویل تولیدی دورانیہ بھی بچوں کی پیدائش کی شرح پر اثر انداز ہوتے ہیں تاہم جسمانی خصوصیات کا کردار بھی نمایاں پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق یہ عمل قدرتی انتخاب کی ایک واضح مثال ہے جس میں وہ افراد زیادہ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے ماحول کے مطابق بہتر طور پر ڈھل جاتے ہیں اور یہی خصوصیات آنے والی نسلوں میں منتقل ہوجاتی ہیں۔




















