کینسر کے علاج کے میدان میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے ایسے مریضوں کے لیے بھی امید پیدا کر دی ہے جن کے علاج کے امکانات انتہائی کم سمجھے جا رہے تھے۔ حالیہ طبی تحقیق میں ایک جدید انجیکشن نے ایسے نتائج دکھائے ہیں جنہیں ماہرین غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں۔
“امیونٹیمب” نامی یہ جدید دوا جسم کے اندر ایسے عوامل کو نشانہ بناتی ہے جو کینسر کے خلیات کو انسانی مدافعتی نظام سے چھپنے میں مدد دیتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ جسم کے دفاعی خلیات کو متحرک کرکے انہیں سرطان زدہ خلیات کے خلاف زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
تحقیقی آزمائش کے دوران اس انجیکشن کو سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا 102 مریضوں پر استعمال کیا گیا جن میں سے بیشتر روایتی علاج کے باوجود مرض پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔ نتائج کے مطابق تقریباً 42 فیصد مریضوں میں سرطان کے ٹیومرز کا حجم نمایاں طور پر کم ہوگیا۔
سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی بات یہ رہی کہ 15 مریضوں میں سرطان کے آثار مکمل طور پر ختم ہو گئے حالانکہ اس سے قبل مختلف ادویات اور علاج کے طریقے ان پر مؤثر ثابت نہیں ہوئے تھے۔
ماہرین کے مطابق سر اور گردن کے کینسر میں زبان، منہ اور گلے کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے ٹیومرز شامل ہوتے ہیں اور ایسے مریضوں کے لیے مؤثر علاج تلاش کرنا ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں کیموتھراپی اور امیونوتھراپی دونوں ناکام ہو چکی تھیں ان میں اس درجے کے نتائج سامنے آنا ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
ان کے مطابق اگر آئندہ مراحل کی تحقیقات بھی کامیاب رہیں تو یہ دوا مستقبل میں کینسر کے علاج کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی لا سکتی ہے۔




















