اگر آپ کو لگتا ہے کہ مچھر دوسروں کے مقابلے میں آپ کو زیادہ کاٹتے ہیں تو یہ صرف آپ کا خیال نہیں۔
نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مچھر واقعی بعض افراد کی جانب زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ جسم سے خارج ہونے والی مخصوص بو، حرارت اور سانس کے ذریعے خارج ہونے والی گیس ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں۔ وہ دور سے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی گیس کو محسوس کرلیتی ہیں اور قریب آنے پر جسم کی بو، حرارت اور نمی انہیں اپنے شکار کے انتخاب میں مدد دیتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مچھر مخصوص خون کے گروپ یا جلد، آنکھوں اور بالوں کے رنگ کی وجہ سے کسی شخص کو زیادہ کاٹتے ہیں تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل فرق جسم سے خارج ہونے والی بو میں ہوتا ہے۔ انسانی جسم سے سیکڑوں مختلف خوشبو دار اور بدبودار مرکبات خارج ہوتے ہیں جن میں سے بعض مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔
ایک تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے متعدد خواتین کا جائزہ لیا اور پایا کہ جن افراد کے جسم سے جلد میں موجود قدرتی چکنائی کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والا ایک مخصوص مرکب زیادہ مقدار میں خارج ہورہا تھا، انہیں مچھر نسبتاً زیادہ پسند کررہے تھے۔
حیران کن طور پر اس مرکب میں معمولی اضافہ بھی مچھروں کی توجہ بڑھانے کے لیے کافی تھا جب کہ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ شراب نوشی مچھروں کی کشش میں اضافہ کرسکتی ہے۔
اس کی وجہ جسمانی درجہ حرارت میں اضافہ، سانس کے ذریعے زیادہ گیس کا اخراج اور جسمانی بو میں تبدیلی ہے۔ مختلف مطالعات میں دیکھا گیا کہ شراب پینے والے افراد کی طرف مچھر زیادہ راغب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیوں کے باعث مچھروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہورہا ہے جس سے مختلف بیماریوں کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مچھر کے کاٹنے سے بچنے کے لیے جسم کو ڈھانپنے والے ڈھیلے کپڑے پہنیں، مچھر دانی اور حفاظتی لوشن استعمال کریں جب کہ بھاری غذا اور شراب نوشی سے حتی الامکان گریز کریں۔




















