جہاز جیسے بڑے سفری ذرائع کا پیچیدہ انجن تیار کرنا معمولی بات نہیں تاہم چینی طالب علم نے یہ غیر معمولی کام اپنے ہاتھوں سے انجام دے دیا۔
چین میں ایک 14 سالہ طالب علم اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جو اپنے ہاتھوں سے ایک فعال جیٹ انجن تیار کرنے میں مصروف ہے۔
چی جنگانگ نامی یہ طالب علم عام بچوں کی طرح نہیں ہے جہاں اس کے ہم عمربچے ویڈیو گیمز کھیلنے میں وقت گزارتے ہیں وہیں چی جنگانگ نے کم عمری میں ہی ہوابازی کے شعبے میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔

رپورٹس کے مطابق وہ کنڈرگارٹن میں تھا جب اسے کاغذی جہازوں سے دلچسپی پیدا ہوئی اور اس نے جلد ہی سمجھ لیا کہ ایک کاغذی گیند اور جہاز کے اڑنے میں فرق کیوں ہوتا ہے اور یہی تجسس اسے سائنسی تحقیق کی طرف لے گیا ابتدائی تجربات کے بعد انہوں نے اپنے گھر کو ایک چھوٹی لیبارٹری میں تبدیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کا سب سے بڑا ہوٹل؛ کمروں کی تعداد آپ کو حیران کر دے گی
چی روزانہ تین گھنٹے ہوابازی سے متعلق کتابیں پڑھتا جبکہ تیسری جماعت تک پہنچتے پہنچتے اس نے خود ہی کیلکولس، ایروڈائنامکس، پرنٹڈ سرکٹ بورڈ ڈیزائن اور جدید سافٹ ویئر جیسے سالڈ ورکس اور کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن سیکھ بھی لیا۔

بعد ازاں چی نے چینی ویڈیو پلیٹ فارم ڈوین جو کہ ٹک ٹاک کا چینی ورژن ہے پر موجود ٹیوٹوریلز سے رہنمائی حاصل کی اور ایک چھوٹا مگر فعال ٹربوجیٹ انجن بنانے کا فیصلہ کیا تاہم اس نے کسی اور کے ڈیزائن کی نقل کرنے کے بجائے خود سے ہر پرزہ ڈیزائن کرنے کو ترجیح دی۔
چی جنگانگ نے اپنے منصوبے کے لیے 2 ڈی انجینئرنگ ڈرائنگز تیار کیں، 3 ڈی ماڈلز بنائے اور سافٹ ویئر کے ذریعے ہوا کے بہاؤ، درجہ حرارت اور دباؤ کا حساب لگایا۔
اس نے اپنے تجربات کی ویڈیوز بھی اپلوڈ کرنا شروع کیں جہاں دیگر شوقین افراد نے اسے مشورے دیے اور حوصلہ افزائی کی حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے اس کے لیے 3 ڈی پرنٹنگ کی پیشکش بھی کی چھ ماہ کی محنت کے بعد اس نے پہلا پروٹوٹائپ تیار کیا تاہم ابتدائی ٹیسٹ ناکام رہا۔

چی کے مطابق ایندھن، کمبسشن چیمبر اور کمپریسر کی ترتیب میں مسائل تھے تاہم ا سب کے باوجود اس کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔
چی کا کہنا ہے کوئی بھی چیز پہلی بار میں کامیاب نہیں ہوتی اگر میں ناکام بھی ہوا ہوں تو میں نے کچھ سیکھا ہے اور یہی مجھے دوبارہ کوشش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
اب چی جنگانگ ایک نئے اور بہتر ٹربوجیٹ انجن پر کام کر رہا ہے اور جلد اس کا دوبارہ تجربہ کرنے کے لیے پر جوش ہے۔



















