پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بچت کی شرح گزشتہ 30 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 100 روپے آمدن میں سے صرف 6 روپے بچائے جا رہے ہیں جبکہ قومی آمدن کا 93.6 فیصد حصہ کھپت پر خرچ ہو رہا ہے۔ پائیڈ کے اعداد و شمار کے مطابق گھریلو بچتوں کی شرح 1992 میں 17.4 فیصد تھی جو کم ہو کر 2024 میں صرف 6.4 فیصد رہ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمزور بچتیں پاکستان کی معاشی مشکلات، سرمایہ کاری میں کمی اور بار بار بیرونی مالیاتی امداد و آئی ایم ایف پروگراموں پر انحصار کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ پائیڈ نے نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش، بھارت اور ویتنام جیسے ممالک بچت کے میدان میں پاکستان سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل مہنگائی نے بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی حقیقی قدر کم کر دی ہے، جس کے باعث عوام بینکوں میں رقم رکھنے کے بجائے سونا، جائیداد اور نقد رقم کو ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کی بڑھتی ہوئی قرض گیری نے نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع محدود کر دیے ہیں۔
پائیڈ نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں قومی سطح پر بچت کے فروغ کے لیے جامع پالیسی متعارف کرانے کی سفارش کرتے ہوئے بچت پر ٹیکس مراعات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں طویل المدتی بچت اسکیموں کے لیے خصوصی ٹیکس کریڈٹ، خواتین، پنشنرز اور خود روزگار افراد کے لیے اضافی مراعات اور صحت، لائف انشورنس و تکافل پر ٹیکس ریلیف کی بحالی کی تجویز دی گئی ہے۔
ادارے نے شہداء کے خاندانوں، بیواؤں اور بزرگ شہریوں کے لیے خصوصی بچت مراعات دینے جبکہ بچت اسکیموں پر نئے ٹیکس عائد کرنے سے گریز کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ رپورٹ میں سونا، جائیداد اور غیر رسمی سرمایہ کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے، ریٹیل سکوک، پنشن فنڈز اور قومی بچت اسکیموں تک عوامی رسائی بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔
پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر نعیم نواز کا کہنا ہے کہ دوسروں کے پیسوں پر انحصار کا دور ختم کرنا ہوگا۔ جبکہ ماہر معاشیات واجد اسلام نے کہا کہ اگر بچت کو محفوظ اور منافع بخش بنایا جائے تو پاکستانی عوام بچت کی طرف ضرور راغب ہوں گے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف ٹیکس مراعات کافی نہیں ہوں گی بلکہ مہنگائی پر قابو پانا، مالیاتی استحکام پیدا کرنا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہے۔ پائیڈ نے سالانہ ’’سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ‘‘ کے قیام کی سفارش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مقامی بچتوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا گیا تو مستقبل میں ایک نئے بیرونی مالیاتی بحران کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کو قومی بچت کلچر کے فروغ کے نقطۂ آغاز میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے مضبوط مقامی بچتیں ناگزیر ہیں۔















