اسلام آباد: سپریم کورٹ نے بلدیہ فیکٹری سانحہ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے سزائے موت پانے والے دو ملزمان محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن عرف بھولا کو بری کردیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا جب کہ سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے گئے۔
39 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے تحریر کیا جب کہ جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس شکیل احمد نے بھی فیصلے سے اتفاق کیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ واقعے کے ڈھائی سال بعد سامنے آنے والی نئی کہانی قابلِ اعتماد نہیں جب کہ تاخیر سے سامنے آنے والے بیانات پر انحصار بھی نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ ملزمان کے عدالتی اعترافِ جرم کی آزاد شواہد سے توثیق نہیں ہوسکی جب کہ فرانزک شواہد بھی فیکٹری میں کیمیکل کے استعمال کے دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سانحے میں زخمی ہونے والے 34 گواہوں میں سے کسی ایک نے بھی ملزمان کے خلاف بیان نہیں دیا جب کہ سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہ کیے جانے سے بھی استغاثہ کا مقدمہ مزید کمزور ہوا۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ قیاس آرائیوں اور عمومی الزامات کی بنیاد پر کسی شخص کی سزا برقرار نہیں رکھی جاسکتی جب کہ شک کا فائدہ دینا ہر ملزم کا قانونی حق ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف دیے گئے عدالتی ریمارکس حذف کرنے کا بھی حکم دیا۔
تفصیلی فیصلے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمن عرف بھولا کو بری کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی عدالت کے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔



















