پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوٹلی میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ کوٹلی آتے ہیں تو انہیں اپنے گھر آنے کا احساس ہوتا ہے، کیونکہ یہاں کے کارکن اور رہنما ان کے خاندان کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین پارٹی سے وفاداری کی زندہ مثال ہیں، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، اور اب ان کے بیٹے بھی سیاسی میدان میں اتر آئے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی سب سے مقبول جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ ہر حلقے میں ٹکٹ کے خواہشمند امیدواروں کی بڑی تعداد تھی، جس کی وجہ سے امیدواروں کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم پارٹی نے فیصلہ کیا کہ ٹکٹ صرف وفادار کارکنوں کو دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایل اے 13 میں نئے امیدوار اور مطلوب انقلابی کے بیٹے کے درمیان فیصلہ کرنا تھا، لیکن انہوں نے مطلوب انقلابی کے بیٹے کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا اور کوٹلی کے عوام سے اپیل کی کہ انہیں کامیاب بنا کر اسمبلی بھیجیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا اہم ترین انتخاب ہے۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں، گزشتہ چھ ماہ سے آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، جبکہ وفاق میں بھی ان کے اتحادی شہباز شریف کی حکومت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کوٹلی کی ہر نشست پر پیپلز پارٹی کامیاب ہو تاکہ مضبوط حکومت قائم کی جا سکے۔
بلاول بھٹو نے الزام لگایا کہ مخالفین کو معلوم ہے کہ جاوید بدھانی کامیاب ہو رہے ہیں، اسی لیے ان پر قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین ہر شخص کو دہشت گرد قرار دے کر جھوٹے مقدمات بنا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ قتل کے مقدمات درج کرانے والے یہ نہ سمجھیں کہ پیپلز پارٹی سب کچھ بھول جائے گی۔ “الیکشن ہونے دیں، پھر میں خود دیکھ لوں گا۔”
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بلند کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، کوئی اور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے سندھ کا فیصلہ سندھ، بلوچستان کا فیصلہ بلوچستان کے عوام کریں، اسی طرح کشمیر کا فیصلہ بھی کشمیریوں کو کرنے دیا جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ ملکیت دلائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں اور پرانے نظام پر مزید چلنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہر کشمیری اور پاکستانی پریشان ہے، جبکہ پولیس اور فوج کے ان اہلکاروں کے خاندانوں کا دکھ بھی محسوس کرتے ہیں جنہوں نے ملک کے لیے جانوں کی قربانیاں دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 12 نشستیں زیادہ اہم ہیں یا انسانی جانیں؟
بلاول بھٹو نے انکشاف کیا کہ انہیں کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے خط موصول ہوا تھا، جس میں پیپلز پارٹی سے حالات بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اگلے ہی روز وزیراعظم کو بھی خط لکھ کر ٹروتھ کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ تمام واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہو سکیں۔ ان کے مطابق جب تک کمیشن اپنی رپورٹ مکمل نہ کرے، احتجاج کرنے والے احتجاج ختم کریں اور وفاق بھی مزید کارروائی سے گریز کرے۔
جلسے کے اختتام پر بلاول بھٹو نے کارکنوں سے بھرپور انتخابی مہم چلانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 27 جولائی کو پورے کوٹلی میں “تیروں کی بارش” ہونی چاہیے اور شیر کا ایسا شکار ہوگا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔


















