Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

واٹس ایپ نے اسرائیلی جاسوسی کمپنی کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا دعویٰ کردیا

ایک ایسے ہیکنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا جو اسرائیلی جاسوسی کمپنی سے منسلک ہے، واٹس ایپ

واٹس ایپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل میں قائم جاسوسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ نے عدالتی پابندی کے باوجود صارفین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے بروقت ناکام بنادیا گیا۔

واٹس ایپ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک ایسے ہیکنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا جو این ایس او گروپ سے منسلک ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمی اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے جس کے تحت این ایس او گروپ کو واٹس ایپ اور اس کے صارفین کو ہدف بنانے سے روکا گیا تھا۔

واٹس ایپ کے مطابق حملہ آوروں نے صارفین کو دھوکے سے نقصان دہ روابط پر کلک کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ روابط واٹس ایپ سے باہر موجود ویب سائٹس کی طرف لے جاتے تھے، جہاں صرف ایک کلک کے ذریعے کسی ڈیوائس کو متاثر کیے جانے کا خطرہ موجود تھا۔

کمپنی نے بتایا کہ مشتبہ سرگرمی کے دوران چند آزمائشی اکاؤنٹس اور گروپس بھی بنائے گئے تھے جنہیں شناخت ہونے کے بعد بند کردیا گیا جب کہ اس معاملے پر مزید اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔

یاد رہے کہ واٹس ایپ نے 2019 میں این ایس او گروپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے کمپنی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے واٹس ایپ صارفین کو ہدف بنانے سے مستقل طور پر روک دیا تھا۔

اب واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ این ایس او گروپ نے اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے جس پر کمپنی نے وفاقی عدالت سے توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب این ایس او گروپ کی جانب سے ان الزامات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واٹس ایپ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ جاسوسی سافٹ ویئر کے غلط استعمال کے خلاف کام کرنے والے اداروں کی معاونت کے لیے ایک خصوصی فنڈ میں مالی تعاون فراہم کرے گا۔

کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ صارفین کے ذاتی پیغامات اور کالز بدستور محفوظ ہیں کیونکہ وہ آغاز سے اختتام تک خفیہ کاری کے نظام کے تحت محفوظ رہتی ہیں۔

واٹس ایپ نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیوائسز اور ایپلی کیشنز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

متعلقہ خبریں