Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستانیوں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا شاندار اعلان، 50 ہزار ڈالر جیتنے کا بہترین موقع

شرکت کے خواہشمند پاکستانی محققین کو مختصر درخواست فارم جمع کرانا ہوگا

مصنوعی ذہانت کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے بائیو باؤنٹی پروگرام کے لیے اہل ممالک کی فہرست میں پاکستان کو شامل کر لیا، جس کے بعد پاکستانی سائبر سیکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین بھی اس پروگرام میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ پروگرام ایسے ماہرین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، ریڈ ٹیمنگ  اور حیاتیاتی سیکیورٹی کے شعبوں میں تجربہ رکھتے ہیں۔ پروگرام کا مقصد اے آئی ماڈلز میں موجود ممکنہ حیاتیاتی حفاظتی کمزوریوں کی نشاندہی کر کے انہیں مزید محفوظ بنانا ہے۔

پروگرام کے تحت نمایاں تحقیق یا اہم حفاظتی خامی دریافت کرنے والے محققین کو 50 ہزار امریکی ڈالر تک کا انعام دیا جا سکتا ہے جبکہ دیگر قابلِ ذکر تحقیقی نتائج پر بھی اوپن اے آئی اپنی پالیسی کے مطابق انعامات دے گا۔

شرکت کے خواہشمند پاکستانی محققین کو مختصر درخواست فارم جمع کرانا ہوگا جس میں ذاتی معلومات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ وابستگی اور متعلقہ تجربے کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ درخواست گزار کے لیے فعال اوپن اے آئی اکاؤنٹ ہونا بھی لازمی ہے۔

درخواستوں کی جانچ کے بعد منتخب امیدواروں کو ایک مخصوص پلیٹ فارم تک رسائی دی جائے گی، جہاں تحقیق شروع کرنے سے قبل انہیں رازداری کے معاہدے این ڈی اے پر دستخط کرنا ہوں گے۔ اوپن اے آئی نے واضح کیا ہے کہ جو افراد پہلے ہی اس پروگرام کے لیے درخواست دے چکے ہیں انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

منتخب محققین کو ایسی ممکنہ تکنیکوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو اے آئی ماڈلز کی حیاتیاتی حفاظتی رکاوٹوں کو وسیع پیمانے پر متاثر کر سکیں۔ اس عمل کا مقصد ممکنہ کمزوریوں کو سامنے لا کر اے آئی سسٹمز کو مزید محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں جس کے پیش نظر عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں ریڈ ٹیمنگ پروگرامز کے ذریعے اپنے اے آئی ماڈلز کی حفاظتی جانچ کو مزید مؤثر بنا رہی ہیں۔

پاکستان کو اس پروگرام میں شامل کیے جانے کو مقامی آئی ٹی، سائبر سیکیورٹی اور اے آئی ماہرین کے لیے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ ایک عام انعامی مقابلہ نہیں بلکہ ایک تکنیکی تحقیقاتی پروگرام ہے، جس میں حصہ لینے کے لیے متعلقہ شعبوں میں مہارت اور عملی تجربہ ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں