ایران کا اعلیٰ سطحی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک پہنچ گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں آنے والے وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی اور مرکزی بینک کے گورنر بھی شامل ہیں تاہم سوئس حکام نے ایرانی وفد کی آمد کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران امریکا سے اس کے وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے واضح مؤقف طلب کیا جائے گا۔
A high-ranking Iranian delegation (Minab 168), headed by Mohammad Bagher Ghalibaf, arrived in Zurich on Saturday night. pic.twitter.com/RdGnWkjDlR
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) June 20, 2026
انہوں نے کہا کہ ایران یہ جاننا چاہتا ہے کہ امریکا اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیا اقدامات کرے گا کیونکہ وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں مفاہمتی عمل کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ مخالف فریق لبنان میں جنگ بندی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ حتمی معاہدے پر بات چیت اسی وقت ممکن ہوگی جب دیگر طے شدہ نکات پر بھی مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا اسرائیل کو جنگ بندی کی پابندی پر آمادہ کرے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ’’وعدے کے بدلے وعدہ اور عمل کے بدلے عمل‘‘ کے اصول پر استوار ہے۔


















