واشنگٹن: اردن میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ایران کے خلاف بھرپور فضائی کارروائی کا حکم دے دیا جس کے تحت امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے مسلسل آٹھویں رات بھی ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران بندرگاہی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ خوزستان اور ہرمزگان صوبوں کے متعدد علاقوں پر بھی نئے امریکی فضائی حملوں کی خبر سامنے آئی۔
امریکی فوج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران میں مختلف اہداف کے خلاف مسلسل آٹھویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران میں نئی فضائی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ایرانی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اردن میں امریکی فوج پر حملوں کے ذمہ دار عناصر، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب، کو فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
عالمی سیکیورٹی الرٹ
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے عالمی سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اچانک کشیدگی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق ایران سے وابستہ گروہ دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث سیکیورٹی خطرات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔



















