Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی؟ امریکا نے یورپی اڈوں سے جنگی طیارے مشرق وسطیٰ روانہ کر دیے

جنگی طیاروں کی دوبارہ تعیناتی کا فیصلہ اردن میں امریکی ائیربیس پر ایرانی حملے سے پہلے ہی کیا جا چکا تھا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ماحول کے دوران امریکا نے خطے میں اپنی فضائی موجودگی بڑھانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ میں موجود امریکی فضائی اڈوں سے جدید جنگی طیاروں سمیت اضافی فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ منتقل کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا جرمنی میں تعینات ایف-16 لڑاکا طیارے جبکہ برطانیہ میں موجود جدید ایف-35 اسٹیلتھ جنگی طیارے خطے میں بھیجنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے کے فضائی آپریشنز کو جاری رکھنے کے لیے ایندھن بھرنے والے ٹینکر طیارے بھی منتقل کیے جا رہے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدامات مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی طاقت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایران کے حوالے سے واشنگٹن کی ممکنہ فوجی حکمت عملی کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طیاروں کی یہ نقل و حرکت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کی دوبارہ تعیناتی کا فیصلہ اردن میں امریکی ائیربیس پر ایرانی حملے سے پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ اس حملے میں امریکی فوج کے دو اہلکار ہلاک، ایک لاپتا جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب امریکی حکومت نے تاحال ان طیاروں کی تعیناتی کے مقصد یا مستقبل کی فوجی حکمت عملی سے متعلق کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اضافی ایف-16، ایف-35 اور فضائی ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کی خطے میں موجودگی سے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں