نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی۔ پولیس نے مارچ روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جب کہ سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔
مظاہرین نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دیا، جہاں شرکا نے حکومتی تعلیمی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
بعد ازاں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم دہلی پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکم پیل ہوئی جس کے بعد ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جب کہ بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
دوسری جانب احتجاجی قیادت نے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا سے ملاقات کی اور اپنے مطالبات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔
ملاقات کے بعد احتجاجی تنظیم کے ترجمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ صحت نے مطالبات متعلقہ حکام اور اعلیٰ سطح پر اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
احتجاج اور پولیس کارروائی کے بعد نئی دہلی میں سیاسی ماحول بدستور کشیدہ ہے تاہم حکومت کی جانب سے وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔



















