ایران نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نطنز کے قریب واقع کولانگ کوہ کا نام لے کر ایک مرتبہ پھر فوجی کارروائی کا ماحول بنا رہا ہے حالانکہ تہران کے مطابق اس مقام پر کوئی جوہری سرگرمی جاری نہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ واشنگٹن ایک ایسے مقام کو متنازع بنا کر پیش کر رہا ہے جہاں ان کے بقول کوئی ایٹمی منصوبہ فعال نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کو بنیاد بنا کر ایران کے خلاف نئی جارحیت کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے عالمی جوہری نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی صدر کھلے عام حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو عالمی ادارے کی خاموشی کئی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نطنز کے قریب واقع کولانگ کوہ کے بارے میں سوال کے جواب میں عندیہ دیا تھا کہ امریکا اس مقام کو بھی ممکنہ ہدف بنا سکتا ہے۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ زیرِ زمین تنصیب ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو سکتی ہے جبکہ ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات اور جوابی بیانات کا یہی سلسلہ جاری رہا تو سفارتی محاذ مزید کمزور اور عسکری تناؤ مزید شدید ہو سکتا ہے۔


















