مودی سرکار نے بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر کئی زندگیوں کو داؤ پرلگا دیا۔
ہندوانتہا پسندی کے غلبہ کیلئے قائم مودی حکومت نے اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لیے مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی، ہندوتوا راج میں بھارتی مسلمانوں کا جینا محال، تعلیم جیسے بنیادی حق سے بھی محروم کیا جانے لگا۔
بھارتی جریدے نیشنل ہیرالڈ کے مطابق مسلمان طالبہ فرح ناز نے بتایا کہ جنترمنتر میں احتجاج کے دوران بھارتی پولیس نے تشدد کیا اور مسلمان ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹے گاڑی میں بٹھا کر رکھا۔
بھارتی مسلمان طالبہ فرح ناز نے بتایا کہ پولیس نے کہا تمہاری اور دوسرے مسلمان مظاہرین کی الگ لسٹ بنے گی کیونکہ تم غدار ہو، سوشل میڈیا پر بھی ہمیں غدار کہہ کر ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔
بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر تشدد، مساجد کو نقصان پہچانا اور انہیں نفرت کانشانہ بنانا معمول بن گیا ہے، دو قومی نظریہ کی روشنی میں بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حوالے سے قائداعظم کی پیش گوئی سچ ثابت ہوچکی ہے۔


















