Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

چین نے انسان سے مشابہ دنیا کا پہلا بایونک ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرا دیا

 کمپنی کے مطابق پہلے روبوٹس کی فراہمی ستمبر کے وسط سے شروع ہونے کی توقع ہے

چینی ٹیکنالوجی کمپنی یو بی ٹیک نے حال ہی میں انتہائی حقیقت سے قریب تر نظر آنے والے ہیومنائیڈ روبوٹس کی ایک نئی سیریز متعارف کرائی ہے جو انسانی جلد جیسی بایومی میٹک جلد اور جدید مصنوعی ذہانت سے لیس ہیں۔

چین کافی عرصے سے ہیومنائیڈ روبوٹس کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے لیکن اب ایک چینی کمپنی اس صنعت کو ایک نئی سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہے۔ کمپنی نے ایسے انتہائی حقیقت پسند ہیومنائیڈ روبوٹس کی بڑے پیمانے پر پیداوار کا اعلان کیا ہے جو نہ صرف انسانوں جیسے دکھائی دیتے ہیں بلکہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی بدولت لوگوں سے قدرتی انداز میں بات چیت بھی کر سکتے ہیں۔

نئے یو ورلڈ یو ون اینڈرائیڈ روبوٹس مرد اور خواتین ماڈلز کے قد بالترتیب 183  سینٹی میٹر اور 169 سینٹی میٹر ہے، جبکہ ان کا وزن اپنے اوسط انسانی ہم منصبوں کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

حقیقی جلد جیسی بایومی میٹک جلد کے علاوہ ان روبوٹس میں دوہری محور پر مبنی بایومی میٹک گردن بھی موجود ہے جو انہیں انسانی بنیادی حرکات کا تقریباً 90 فیصد تک نقل کرنے کے قابل بناتی ہے۔

کمپنی کے مطابق اس کا تیار کردہ خصوصی چہرے کے تاثرات کا نظام گفتگو کے دوران ہونٹوں کی حرکت کو صرف 20 ملی سیکنڈ سے بھی کم تاخیر کے ساتھ ہم آہنگ رکھتا ہے۔ یہ ہیومنائیڈ روبوٹس دنیا کے پہلے جذبات کو سمجھنے والے بڑے لینگویج ماڈل  سے چلتے ہیں جو طویل مدتی رفاقت کے لیے تیار کیا گیا ہے یہ نظام 20  سے زیادہ باریک جذباتی کیفیتوں کو 90 فیصد سے زائد درستگی کے ساتھ پہچان سکتا ہے۔

کمپنی کی پریس ریلیز کے مطابق یو ون سیریز کو صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے مختلف مقاصد کے تحت تیار کیا گیا ہے جن میں روزمرہ کی رفاقت، جذباتی معاونت، بہتر طرزِ زندگی، سماجی مدد، استقبالیہ اور مہمان نوازی کی خدمات، بزرگوں کی دیکھ بھال، نفسیاتی معاونت، سیاحت اور نمائشیں، تحقیق و تعلیم، اور اعلیٰ معیار کی گھریلو خدمات شامل ہیں۔

یو بی ٹیکنے  یو ون ہیومنائیڈ روبوٹس کی رونمائی کے بعد اعلان کیا کہ اسے پہلے ہی 10,000  سے زائد آرڈرز موصول ہو چکے ہیں۔ ان روبوٹس کی قیمت مختلف فیچرز کے لحاظ سے 17,000  امریکی ڈالر سے 145,000 امریکی ڈالر کے درمیان ہے۔

 کمپنی کے مطابق پہلے روبوٹس کی فراہمی ستمبر کے وسط سے شروع ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ خبریں