دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کے باعث جہاں ایئر کنڈیشنرز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے وہیں چین نے گنجان آباد شہری علاقوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک منفرد اور نسبتاً کم لاگت حل متعارف کرایا ہے جس نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
چین کے شمالی صوبے شانشی کے شہر یونچینگ میں بلند و بالا رہائشی عمارتوں کی چھتوں پر “روف ٹاپ رین” نامی کولنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت چھتوں پر لگے ہائی پریشر نوزلز ہوا میں پانی کی انتہائی باریک پھوار خارج کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عمارتوں کے اطراف کا درجہ حرارت تقریباً 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام ایواپوریٹو کولنگ کے سائنسی اصول پر کام کرتا ہے۔ اس عمل میں پانی کے باریک قطرے گرم ہوا سے حرارت جذب کر کے بھاپ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے اردگرد کا ماحول ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار انسانی جسم میں پسینے کے بخارات بننے سے پیدا ہونے والی قدرتی ٹھنڈک سے مشابہت رکھتا ہے۔
Artificial rain turns this residential community into a misty wonderland. 🌧️✨
With water mist drifting through the landscape, the neighborhood looks peaceful, dreamy and almost unreal.#ResidentialCommunity #ArtificialRain #MistyViews #UrbanLandscape #ChinaStories #DreamyVibes… https://t.co/i3ohaGoU27 pic.twitter.com/3XapalKS8X— China Youth Daily (@CNYouthDaily) July 2, 2026
انتظامیہ کے مطابق اس سسٹم کو صرف شدید گرمی کے دوران چلایا جاتا ہے تاکہ پانی کے قطرے زمین تک پہنچنے کے بجائے فضا میں ہی بخارات بن جائیں اور نیچے سے گزرنے والے افراد متاثر نہ ہوں۔
سوشل میڈیا پر اس نظام کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے صارفین نے اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کئی افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ نسبتاً کم لاگت والا یہ نظام دنیا کے دیگر گرم علاقوں میں کیوں نہیں اپنایا جا رہا۔




















