فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں اکثر ایسی کہانیاں دکھائی جاتی ہیں جو حقیقت سے بہت دور محسوس ہوتی ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بعض خیالی واقعات حیران کن طور پر حقیقی دنیا میں بھی رونما ہو جاتے ہیں۔ ذیل میں چند ایسی مشہور فلمیں اور ٹی وی شوز پیش کیے جا رہے ہیں جن کی کہانیاں بعد میں کسی نہ کسی حد تک حقیقت سے ملتی جلتی دکھائی دیں۔
‘آرماگیڈن‘ (1998)

اس فلم میں ایک خطرناک شہابیہ (Asteroid) زمین سے ٹکرانے والا ہوتا ہے اور ناسا اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ سن 2021 میں ناسا نے پہلی بار ایک حقیقی مشن کے ذریعے ایک شہابیے کا راستہ تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ کیا جسے سیاروی دفاع کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔
‘دی سمپسنز’ اور روس۔یوکرین جنگ

‘دی سمپسنز’ کو مستقبل سے متعلق کئی درست اندازوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ 1998 کی ایک قسط میں روسی فوجی کارروائی اور برلن میں کشیدگی دکھائی گئی تھی جسے بعد میں روس کے یوکرین پر حملے کے تناظر میں سوشل میڈیا پر بہت زیرِ بحث لایا گیا۔ تاہم، شو کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش گوئی نہیں بلکہ سرد جنگ کے دور کے خدشات پر مبنی ایک کہانی تھی۔
‘کونٹیجیئن‘ (2011)

اس فلم میں چین سے شروع ہونے والی ایک خطرناک وبا پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں۔ 2020 میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد اس فلم کو دوبارہ بہت زیادہ دیکھا گیا کیونکہ اس کی کئی تفصیلات حقیقی حالات سے ملتی جلتی محسوس ہوئیں۔
‘چلڈرن آف مین‘ (2006)

اس فلم میں انسانوں میں بانجھ پن کی وبا پھیل جاتی ہے اور نئی نسل کی پیدائش تقریباً رک جاتی ہے اگرچہ حقیقی دنیا میں ایسا بحران پیدا نہیں ہوا، لیکن کئی ممالک میں شرحِ پیدائش گزشتہ چند دہائیوں سے مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی نشاندہی مختلف سائنسی مطالعات میں کی گئی ہے۔
‘1984’

جارج آرویل کے ناول پر بننے والی اس فلم میں ایک ایسی ریاست دکھائی گئی ہے جہاں حکومت شہریوں کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ بعد ازاں مختلف انکشافات میں معلوم ہوا کہ بعض خفیہ ادارے شہریوں کی ڈیجیٹل نگرانی کرتے رہے جس کے باعث اس فلم کا دوبارہ ذکر ہونے لگا۔
‘ہیکرز‘ (1995)

اس فلم میں سائبر حملوں کمزور پاس ورڈز اور ہیکرز کے بڑھتے ہوئے خطرات کو دکھایا گیا تھا آج سائبر جرائم، ڈیٹا چوری اور ہیکنگ دنیا بھر میں بڑے سیکیورٹی مسائل بن چکے ہیں۔
‘گیٹاکا‘ (1997)

اس فلم میں لوگ گھر بیٹھے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کر سکتے ہیں آج کئی ممالک میں ہوم ڈی این اے ٹیسٹنگ کٹس دستیاب ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنی جینیاتی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
‘ریٹرن آف دی جیڈی‘ (1983)

اس فلم میں اڑنے والی اسپیڈر بائیکس دکھائی گئی تھیں۔ آج کئی کمپنیاں اڑنے والی موٹر سائیکلوں اور ذاتی فضائی گاڑیوں کے نمونے تیار کر چکی ہیں، اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام استعمال میں نہیں آئی۔
‘دی ٹرمینیٹر’ (1984)

1984 میں ریلیز ہونے والی مشہور سائنس فکشن فلم ‘دی ٹرمینیٹر’ میں بغیر پائلٹ کے اڑنے والے فضائی ڈرونز دکھائے گئے تھے، جو جنگی کارروائیوں اور نگرانی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
آج دنیا کے کئی ممالک کی افواج ایسے بغیر پائلٹ فضائی طیارے (ڈرونز) استعمال کر رہی ہیں، جو نگرانی، جاسوسی اور بعض صورتوں میں حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ فلم میں دکھائی گئی ٹیکنالوجی زیادہ ترقی یافتہ تھی، لیکن اس کا بنیادی تصور آج حقیقت کا حصہ بن چکا ہے۔




















