امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ امریکا کے حق میں جا رہی ہے اور ایران کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ ہمارے حق میں جا رہی ہے، فتح کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں سے ایران کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے اور تہران کے پاس پیچھے ہٹنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر حملے جاری رکھے گا، تاہم ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے لیے وٹکوف، وینس اور مارکو روبیو سمیت دیگر حکام کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی جانب سے حملے جاری رہے تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے، جبکہ وہ چاہتے ہیں کہ تہران فوری جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے۔
پاکستان اور بھارت جنگ کا ذکر
کیمپ ڈیوڈ میں امریکی کابینہ کے اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقتیں ہیں، اس لیے جنگ روکنا ضروری تھا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ نہ روکی گئی تو 250 فیصد ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ٹیرف کی بات پر دونوں ممالک ناراض ہوئے، تاہم بعد میں پاکستان اور بھارت نے کہا کہ وہ جنگ نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ جنگ رکوانے سے 50 ملین جانیں بچائی گئیں۔
روس، یوکرین اور مشرق وسطیٰ پر مؤقف
امریکی صدر نے کہا کہ وہ اب تک 8 جنگیں رکوا چکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کی جنگ بھی ختم ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقوں کو کچھ رعایتیں دینا ہوں گی، جبکہ یوکرین کے لیے میزائل بنانے کی اجازت دینے پر ابھی کوئی حتمی اتفاق نہیں ہوا۔
ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ معاہدے کو مشرق وسطیٰ کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا۔
دوسری جانب منی سوٹا سائبر حملے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اس میں ایران ملوث نہیں، تاہم ایران کو منی سوٹا کے معاملے سے زیادہ اپنے اندرونی مسائل کی فکر ہے۔
امریکی صدر کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے۔




















