سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں اندازہ لگایا ہے کہ زمین پر موجود نباتاتی حیات تقریباً ایک ارب 87 کروڑ سال تک برقرار رہ سکتی ہے۔
یہ تحقیق دو سائنس دانوں نے کی جس میں مختلف موسم اور زمین کے ماڈلز کے ذریعے آئندہ دو ارب سال کے دوران زمین کے ماحول میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا جب کہ اس تحقیق کے نتائج ایک سائنسی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیق کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی روشنی میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوجائے گا جس کے نتیجے میں یا تو زمین کا درجہ حرارت اس قدر بڑھ جائے گا کہ پودے زندہ نہیں رہ سکیں گے یا پھر فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اتنی کم ہوجائے گی کہ پودوں کے لیے خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوجائے گا۔
سائنس دانوں نے اس حوالے سے دو مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔ پہلے امکان میں زمین کا درجہ حرارت نسبتاً متوازن رہتا ہے لیکن فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ مسلسل کم ہوتی رہتی ہے جس کے باعث پودے تقریباً ایک ارب 84 کروڑ سال بعد ختم ہوسکتے ہیں۔
دوسرے امکان میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ تبدیل نہیں ہوتی تاہم درجہ حرارت مسلسل بڑھتے بڑھتے تقریباً 65 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
اس مرحلے پر خشکی پر موجود کسی بھی پودے کا زندہ رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اس صورت میں نباتاتی حیات کی زیادہ سے زیادہ عمر تقریباً ایک ارب 87 کروڑ سال بنتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ زمین پر پودوں کی زندگی تقریباً اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک زمین اپنے سمندروں کا پانی کھونا شروع نہیں کردیتی۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان اندازوں میں پودوں کی آئندہ ارتقائی تبدیلیوں یا مستقبل میں انسانوں کی ممکنہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو شامل نہیں کیا گیا۔
اگر مستقبل میں پودے بدلتے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت حاصل کرلیں یا انسان زمین کے ماحول کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوجائیں تو نباتاتی حیات کی مدت اس اندازے سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
محققین نے آخر میں کہا کہ زمین پر زندگی غیر معمولی حد تک مضبوط ہے، اس لیے موجودہ حالات کی بنیاد پر لگائے گئے اندازے مستقبل کی حتمی تصویر پیش نہیں کرتے بلکہ یہ امکان موجود ہے کہ زندگی زمین کے ساتھ بہت طویل عرصے تک برقرار رہے۔




















