دنیا کی ایک بڑی آبادی مختلف توہمات پر یقین رکھتی ہے اور ان کے واقع ہونے پر انہیں اچھا یا برا تصور کرتی ہے ان ہی میں آنکھ کا پھڑکنا بھی شامل ہے اسی وہم کو لے کر وسطی چین میں ایک توہم پرست شخص نے اپنی پھڑکتی ہوئی آنکھ کو بدشگونی سمجھ کر اتنی بار تھپڑ مارے جس کے نتیجے میں اس کی آنکھ کا ریٹینا اپنی جگہ سے الگ ہو گیا۔
چین میں ایک مشہور کہاوت ہے جس کے مطابق بائیں آنکھ کے پھڑکنے سے دولت کی آمد ہوتی ہے جبکہ دائیں آنکھ کے پھڑکنے سے کسی مصیبت کا اندیشہ ہوتا ہے تاہم بدقسمتی سے صوبہ ہوبے کے شہر ووہان سے تعلق رکھنے والے مسٹرلی کی دائیں آنکھ کئی دنوں سے مسلسل پھڑک رہی تھی انہوں نے اسے روکنے کے لیے گرم پٹیاں بھی استعمال کیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔
چونکہ وہ اسے بدقسمتی کی علامت سمجھتے تھے اس لیے وقت گزرنے کے ساتھ ان کی پریشانی بڑھتی گئی۔ آخرکار انہوں نے انٹرنیٹ پر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جہاں انہیں ایک مشورہ ملا کہ آنکھ پر تھپڑ مارنے سے پھڑکنا رک سکتا ہے۔
چینی اخبار کے مطابق مسٹرلی نے مسلسل تین دن تک اپنی دائیں آنکھ اور اس کے اردگرد کے حصے پر بار بار تھپڑ مارے اگرچہ اس کے بعد آنکھ کا پھڑکنا تو رک گیا مگر اس سے زیادہ سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی بینائی بہت محدود ہو گئی ہے وہ صرف سامنے کی چیزیں دیکھ پا رہے تھے جبکہ دونوں جانب کی مکمل بینائی ختم ہو چکی تھی۔ جب انہوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ وہ کئی دنوں سے آنکھ پر مسلسل تھپڑ مارتے رہے ہیں تو ڈاکٹروں کو بیماری کی اصل وجہ سمجھ آ گئی۔
معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے تشخیص کی کہ مسٹر لی کی آنکھ کا ریٹینا اپنی جگہ سے الگ ہو چکا ہے جس کے بعد ان کی فوری سرجری کی گئی۔ خوش قسمتی سے آپریشن کامیاب رہا اور ان کی بینائی بحال ہو گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق اب وہ مکمل صحت یاب ہوجائیں گے۔




















