سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق پہلی بار تفصیل سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ میں نے اپنے شوہر حارث کھوکھر سے علیحدگی کے لیے عدالت میں خلع کی درخواست دائر کر دی ہے۔
ایک انٹرویو میں ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے کہا کہ میں اس وقت اپنی زندگی کے انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہوں، مجھے شوہر کے گھر سے نکال دیا گیا اور میرا سامان بھی واپس بھجوا دیا گیا۔
انہوں نے مزید تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال میں اپنی ذاتی زندگی پر مزید بات نہیں کرنا چاہتی اور صرف دعاؤں کی درخواست کرتی ہوں۔
View this post on Instagram
ڈاکٹر نبیہہ کا کہنا تھا کہ میں ہمیشہ مظلوم خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہوں اور اب اپنے تجربے کے ذریعے یہ بتانا چاہتی ہوں کہ بہت سی خواتین گھریلو مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ معاشرے میں مردوں کی ایسی تربیت نہیں کی جاتی کہ وہ اپنی شریکِ حیات کا احترام کریں جس کی وجہ سے خلع کے مقدمات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلع کی درخواست دائر کرنے کے بعد مجھے شوہر کی جانب سے طلاق کا نوٹس بھی موصول ہوا، مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ حارث کھوکھر طلاق کا فیصلہ کر چکے تھے۔
View this post on Instagram
ڈاکٹر نبیہہ علی خان نے انٹرویو میں اپنے شوہر پر جسمانی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے اور دعویٰ کیا کہ شادی کے تیسرے روز ایک لڑکی سے فون پر گفتگو کے معاملے پر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ میرے بیٹے کے سامنے میرے کردار پر سوالات اٹھائے گئے اور ماضی میں مرد ساتھیوں کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز کو بنیاد بنا کر مجھ پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔
تاحال حارث کھوکھر کی جانب سے ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے ان الزامات پر کوئی تفصیلی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم اس معاملے پر دونوں فریقین کے مؤقف اور عدالتی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




















