اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو ملزمان عبدالرحمان بھولا اور زبیر چریا کو بری کردیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمان کو شک کا فائدہ دے دیا۔
سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کی جانب سے فریق بننے کی درخواستیں بھی مسترد کردیں۔
دوران سماعت جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ اگر چند افراد کو مقدمے میں فریق بنایا گیا تو اسی نوعیت کی مزید سیکڑوں درخواستیں سامنے آسکتی ہیں جس سے مقدمے کی کارروائی غیر ضروری طور پر پیچیدہ ہوجائے گی۔
عدالت نے سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور استغاثہ کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔ جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس وقت کراچی میں ایم کیو ایم کے اثر و رسوخ کے باعث گواہان خاموش رہے تاہم عبدالرحمان بھولا کا کوئی اعترافی بیان ریکارڈ پر موجود نہیں جب کہ زبیر چریا کے حوالے سے اعترافی بیان کا ذکر کیا گیا ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ اگر بھتہ کسی سیاسی جماعت کے نام پر طلب کیا گیا تھا تو اس مقدمے میں دیگر بری ہونے والے افراد کے خلاف فیصلوں کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ کسی سیاسی جماعت میں عہدے یا ذمہ داری کی تبدیلی بذات خود جرم نہیں بن سکتی۔
سماعت کے دوران فروغ نسیم نے مؤقف اختیار کیا کہ 22 اگست 2016 کی تقریر کے بعد الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے الگ کردیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیکٹری مالکان کی بریت کے بعد تمام ذمہ داری ایم کیو ایم پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ متعلقہ واقعات کے وقت صورتحال مختلف تھی۔
جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ زبیر چریا کے بارے میں بھی کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ وہ ایم کیو ایم کا رکن تھا۔
عدالت نے کیس کے شواہد پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ فیکٹری میں ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے کیمیکل استعمال ہونے کی تصدیق ہوسکے۔ جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو جان بوجھ کر قتل کرنا استغاثہ کے بنیادی مؤقف کا حصہ نہیں تھا۔
جسٹس شکیل احمد نے بھی سوال اٹھایا کہ اگر ملزمان کا مقصد بھتہ وصول کرنا تھا تو فیکٹری کے کارکنوں کو نقصان پہنچانے سے انہیں کیا فائدہ حاصل ہوسکتا تھا جب کہ جسٹس شہزاد ملک نے فیکٹری کا دروازہ بند کرنے کے قانونی پہلوؤں پر بھی استفسار کیا۔
واضح رہے کہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن کی ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگائی جس کے نتیجے میں 259 افراد جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔

















