اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے ساتھ تجارت کرنے والے تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیاں ناقابلِ قبول ہیں۔
پاکستان نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سمندری آمد و رفت کی آزادی کو نقصان پہنچاتی ہیں، ایسی دھمکیاں قواعد پر مبنی بین الاقوامی بحری نظام کو چیلنج اور عالمی تجارت کے بلا تعطل بہاؤ کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے حوالے سے حوثیوں کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہیں، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بالخصوص قابل تشویش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا، پاکستانی جہازوں اور مفادات کے خلاف کارروائی کو قومی سلامتی اور خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان کو جوابی کارروائی کا حق ہے، پاکستان بحری اثاثوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ بعض عناصر کا سعودی عرب کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں گھسیٹنا باعث تشویش ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ مذاکرات، سفارت کاری اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پختہ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
پاکستان تمام فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور تجارتی جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔



















