امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جوابی فوجی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی حملہ آور ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے دفاعی نوعیت کی کارروائی کے تحت ایران میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فضائیہ اور بحریہ کے جنگی طیاروں نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول اسٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مراکز پر انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے حملے کیے۔
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 10, 2026
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد خطے میں تعینات امریکی افواج اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا، تمام اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اور آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ اور حساس ہو گئی ہے۔
امریکی حکام نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے بھی امریکی بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔




















