امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے لیے طویل المدتی آرڈر میں اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 59 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج نے لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ پیٹریاٹ میزائلوں کی تیاری اور فراہمی کے لیے نیا معاہدہ کیا ہے جس کی مالیت 53.9 ارب ڈالر تک ہے، جبکہ اس سے قبل اپریل میں 4.7 ارب ڈالر کا آرڈر بھی دیا گیا تھا۔
پینٹاگون نے بیلسٹک میزائل خطرات سے نمٹنے کے لیے THAAD انٹرسیپٹرز کی تیاری سے متعلق بھی لاک ہیڈ مارٹن کو ابتدائی کثیر سالہ معاہدہ دیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 35 ارب ڈالر تک ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق میزائل دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے ساتھ پیداواری صلاحیت میں اضافے کا فریم ورک معاہدہ بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد اہم میزائل اجزا کی تیاری تین گنا تک بڑھانا ہے۔
اس منصوبے میں خاص طور پر PAC-3 Missile Segment Enhancement (MSE) کے لیے جدید سیکرز کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے، جو امریکا کے تہہ دار میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیتوں اور حالیہ تنازعات کے بعد امریکا اپنے فضائی دفاعی نیٹ ورک کو مزید جدید اور مؤثر بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔




















