ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بچوں کی ابتدائی عمر میں نیند کی کمی ان کی مستقبل کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ بچے جو چھ ماہ سے سات سال کی عمر تک مسلسل کم نیند لیتے رہے، ان میں 13 سے 22 سال کی عمر کے دوران دیرپا ڈپریشن کے امکانات نمایاں طور پر زیادہ دیکھے گئے۔
یہ تحقیق برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی کے محققین نے کی جس میں 15 ہزار سے زائد بچوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ ڈیٹا ایک طویل المدتی منصوبے کے تحت جمع کیا گیا تھا جس میں بچوں کی نیند کی عادات کو مختلف مراحل میں ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن بچوں کی نیند مستقل طور پر کم رہی، ان میں بعد کی عمر میں مسلسل ڈپریشن کی علامات ظاہر ہونے کے امکانات تقریباً دو گنا زیادہ تھے۔ محققین نے اس تحقیق میں خاندانی حالات اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا تاکہ نتائج زیادہ درست ہوں۔
ماہرین کے مطابق نیند صرف آرام کا وقت نہیں بلکہ دماغی نشوونما، یادداشت، جذبات کے توازن اور ہارمونز کے نظام کے لیے نہایت اہم عمل ہے۔ نیند کی کمی کی صورت میں یہ تمام نظام متاثر ہوتے ہیں جس کا براہ راست اثر ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر نے بتایا کہ مسلسل کم نیند لینے والے بچوں میں نوجوانی کے دوران ڈپریشن کے امکانات واضح طور پر بڑھ جاتے ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ مسئلہ صرف ان بچوں میں زیادہ دیکھا گیا جو طویل عرصے تک نیند کی کمی کا شکار رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بچوں میں کبھی کبھار نیند کا متاثر ہونا عام بات ہے لیکن مسلسل خراب نیند ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔ نیند ایک ایسا پہلو ہے جسے بہتر بنانے کے لیے بڑے طبی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ روزمرہ عادات میں تبدیلی سے اسے بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آج کے دور میں اسکرینز کا زیادہ استعمال، غیر منظم معمولات اور رات دیر تک جاگنا بچوں کی نیند کو متاثر کررہا ہے جس سے ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تحقیق کے مطابق والدین اگر بچوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات کو منظم کریں، سونے سے پہلے اسکرین کا استعمال کم کریں اور پرسکون ماحول فراہم کریں تو اس سے بچوں کی نیند بہتر ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے جو بچوں کی مستقبل کی ذہنی صحت کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔



















