Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ڈائنوساروں کی تباہی کا سبب بننے والا خلائی پتھر انتہائی نایاب تھا

یہ دیوہیکل خلائی پتھر نظامِ شمسی کے دور دراز حصے سے آنے والی انتہائی نایاب قسم کی چٹان تھا۔

سائنس دانوں نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ڈائنوساروں کے خاتمے کا باعث بننے والا خلائی پتھر معمول کا نہیں بلکہ انتہائی نایاب قسم کا تھا۔ ماہرین کے مطابق اسی غیرمعمولی خصوصیت نے زمین پر ہونے والی تباہی کو مزید شدید بنادیا۔

نئی سائنسی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ڈائنوساروں کی نسل کے خاتمے کا سبب بننے والا دیوہیکل خلائی پتھر نظامِ شمسی کے دور دراز حصے سے آنے والی انتہائی نایاب قسم کی چٹان تھا جس کی زمین سے ٹکر نے تاریخ کی بدترین قدرتی آفات کو جنم دیا۔

ماہرین کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل یہ دیوہیکل خلائی پتھر موجودہ میکسیکو کے علاقے یوکاٹن سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں شدید آگ بھڑک اٹھی، بلند سمندری لہریں اٹھیں، طاقتور زلزلے آئے اور فضا گرد و غبار سے بھرگئی۔

تحقیق کے مطابق فضا میں پھیلنے والے باریک ذرات نے سورج کی روشنی کو طویل عرصے تک زمین تک پہنچنے سے روک دیا جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی، پودے تباہ ہوئے اور خوراک کا پورا سلسلہ بکھر گیا جس کے نتیجے میں ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار معدوم ہوگئے۔

ماہرین نے دنیا کے مختلف حصوں سے حاصل کیے گئے پتھروں کے نمونوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور ان میں موجود ایک خاص دھات کی مقدار کا تقابل کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ خلائی پتھر انتہائی نایاب قسم سے تعلق رکھتا تھا جو زمین پر پہنچنے والے خلائی پتھروں میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ خلائی پتھر زمین کے کسی اور حصے سے ٹکراتا یا اس کا زاویہ مختلف ہوتا تو ممکن ہے تباہی کی شدت کم ہوتی۔

ماہرین کے مطابق اس دریافت سے ڈائنوساروں کے خاتمے کی بنیادی وجہ تبدیل نہیں ہوتی تاہم یہ واضح ہوتا ہے کہ تباہی کا اصل سبب فضا میں پھیلنے والے بے شمار باریک ذرات تھے، جنہوں نے طویل عرصے تک زمین کے ماحول کو شدید متاثر کیے رکھا۔

متعلقہ خبریں