قومی خلائی ادارے سپارکو کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ کی تباہ کاریوں کی تفصیلات سامنے لادی ہیں۔
ادارے کے مطابق حالیہ شدید گرمی کی لہر کے باعث بھڑکنے والی آگ نے ہزاروں ہیکٹر جنگلات کو متاثر کیا ہے۔
سپارکو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق آگ نے 25 مختلف مقامات پر پھیلے تقریباً 3 ہزار 37 ہیکٹر رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر جنگلات جل کر خاکستر ہوگئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ سے خصوصاً چِیڑ کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ جنگلات دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے تحفظ اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سپارکو اور ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس تباہی کے اثرات صرف جلنے والے درختوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے طویل المدتی ماحولیاتی نتائج بھی سامنے آئیں گے۔
ماہرین کے مطابق آگ نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کے افزائشِ نسل کے اہم سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ نئے اگنے والے پودے اور پنیریاں بھی بڑی تعداد میں تباہ ہوگئی ہیں جس سے جنگلات کی قدرتی بحالی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تیز اور گرم ہواؤں کے باعث آگ بعض ہمسایہ ڈھلوانوں کی جانب اب بھی پھیل رہی ہے جس کے باعث متاثرہ علاقے میں صورتحال بدستور تشویش ناک ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے تناظر میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے لیے مؤثر نگرانی اور فوری حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

















