چین میں تیار کیے گئے انسان نما روبوٹ ’’لائٹننگ‘‘ نے 100 میٹر دوڑ 9.32 سیکنڈ میں مکمل کرکے دنیا کے تیز ترین انسان کو پیچھے چھوڑ دیا۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق لائٹننگ نامی روبوٹ نے یہ کارنامہ انسان نما روبوٹس کے دوسرے عالمی کھیلوں کے دوران انجام دیا جن کا آغاز ہفتے سے ہوا ہے۔ یہ روبوٹ چینی موبائل فون ساز ادارے ہونر نے تیار کیا ہے۔
یاد رہے کہ دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ نے 2009 میں برلن میں عالمی ایتھلیٹکس مقابلوں کے دوران 100 میٹر دوڑ 9.58 سیکنڈ میں مکمل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔
چین انسان نما روبوٹس کو ابھرتی ہوئی صنعت کے طور پر فروغ دے رہا ہے جب کہ چینی حکومت اور کمپنیوں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت اور جدید مشینی ٹیکنالوجی میں ترقی سے ایسے روبوٹس کو صنعت، سامان کی ترسیل اور دیگر شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکے گا۔
لائٹننگ اس سے قبل اپریل میں بیجنگ کی نصف میراتھن بھی 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کرچکا ہے۔ مقابلے کے لیے روبوٹ کی ٹانگوں کی لمبائی میں 10 سینٹی میٹر اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ انسان نما روبوٹس کے عالمی کھیلوں میں دو ہزار سے زائد روبوٹس حصہ لے رہے ہیں۔ پانچ روزہ مقابلوں میں رننگ یا ریس، ٹیبل ٹینس، فٹ بال، وزن اٹھانے اور رسی کشی سمیت 51 مختلف مقابلے شامل ہیں۔
مقابلوں کے دوران بیجنگ کی ایک کمپنی کے تیار کردہ روبوٹ نے کھڑے ہوکر اونچی چھلانگ میں 2.88 میٹر کی بلندی عبور کی جو انسانی عالمی ریکارڈ 2.45 میٹر سے بھی زیادہ ہے۔
چین میں جاری ان مقابلوں کا مقصد انسان نما روبوٹس کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ چین اس وقت دنیا میں انسان نما روبوٹس کی بڑی تعداد تیار کرنے والا ملک ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس ابھی زیادہ تر تحقیق، مظاہروں اور تفریحی سرگرمیوں تک محدود ہیں اور انہیں عام عملی زندگی میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے میں مزید وقت لگے گا۔
انسان نما روبوٹس کی بڑھتی صلاحیتوں نے مقابلے دیکھنے والے افراد کو بھی متاثر کیا۔ بعض شرکا نے کہا کہ جن کھیلوں کو پہلے صرف انسان انجام دے سکتے تھے، اب روبوٹس کو وہی کام کرتے دیکھنا حیران کن ہے۔




















