Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اگر باب المندب بھی بند ہوا تو دنیا کہاں جائے گی؟

کیا دنیا کے پاس تیل کی ترسیل کے لیے کوئی محفوظ متبادل باقی رہے گا؟

مشرق وسطیٰ کی جنگ اب صرف میزائلوں اور فضائی حملوں تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا کی معیشت کی شہ رگ سمجھے جانے والے بحری راستے بھی اس کی لپیٹ میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے بعد اب باب المندب کا نام عالمی طاقتوں، تیل کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے سب سے بڑی تشویش بن چکا ہے۔ اگر یہ دونوں راستے ایک ساتھ متاثر ہوئے تو صرف خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی توانائی، تجارت اور معیشت غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کے لیے باب المندب کو غیر محفوظ قرار دے کر ایک نئی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔

اگرچہ اب تک اس اعلان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا لیکن صرف اس دھمکی نے ہی کئی آئل ٹینکروں کو اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔ بعض جہاز بحیرہ احمر سے جنوب کی طرف جانے کے بجائے واپس مڑ گئے جس سے عالمی شپنگ انڈسٹری میں خطرے کی نئی لہر دوڑ گئی۔

باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن اور پھر بحرِ ہند سے جوڑتا ہے۔ روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اسی راستے سے یورپ، ایشیا اور دیگر منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اگر یہ راستہ مؤثر طور پر بند ہو گیا تو سعودی عرب کے لیے بھی متبادل راستوں کے ذریعے تیل برآمد کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

گزشتہ چند ماہ سے سعودی عرب آبنائے ہرمز پر دباؤ کے باعث اپنے مشرقی آئل فیلڈز سے خام تیل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے ینبع کی بندرگاہ تک منتقل کر رہا تھا جہاں سے ٹینکر باب المندب کے راستے دنیا بھر کو روانہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہی راستہ بھی غیر محفوظ ہو گیا تو اس متبادل حکمتِ عملی کی افادیت تقریباً ختم ہو جائے گی۔

توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں عالمی منڈی سے روزانہ تقریباً چار سے پانچ ملین بیرل تیل مؤثر طور پر متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑے گا جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث 95 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر باب المندب میں بھی بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی تو قیمتیں آسانی سے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

یہ بحران صرف خام تیل تک محدود نہیں۔ سعودی ریفائنریوں سے یورپ بھیجے جانے والا بڑی مقدار میں ڈیزل بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اگر یہ سپلائی متاثر ہوئی تو یورپی ممالک میں ایندھن مزید مہنگا ہو سکتا ہے جبکہ ایشیائی ممالک جو پہلے ہی درآمدی تیل پر انحصار کرتے ہیں انہیں بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ادھر امریکا کے لیے بھی یہ صورت حال آسان نہیں امریکی بحریہ پہلے ہی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت اور ایران سے متعلق عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔ اگر باب المندب میں بھی نیا محاذ کھلتا ہے تو واشنگٹن کو اپنی بحری قوت دو مختلف حساس مقامات پر تقسیم کرنا پڑ سکتی ہے جس سے اس کی آپریشنل صلاحیت پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ جنگ کہاں تک جائے گی بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا کے پاس تیل کی ترسیل کے لیے کوئی محفوظ متبادل باقی رہے گا؟ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بیک وقت غیر محفوظ ہو گئے تو عالمی سپلائی چین، شپنگ لاگت، افراط زر اور توانائی کی قیمتوں پر اس کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ اب دنیا کی نظریں صرف میدانِ جنگ پر نہیں بلکہ ان دو سمندری گزرگاہوں پر بھی جمی ہوئی ہیں جہاں سے عالمی معیشت کی سانسیں وابستہ ہیں۔

متعلقہ خبریں