واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کو دوبارہ حملوں سے باز رہنے کی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حوثیوں نے مزید کارروائی کی تو اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حوثیوں نے گزشتہ رات دو سعودی طیاروں پر فائرنگ کی جس پر شدید مایوسی ہوئی جب کہ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ حملے کیے تو امریکا اس کا براہِ راست ذمہ دار ایران کو سمجھے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ پراکسی گروپ ہیں، ایران اور حوثیوں کو کسی بھی جارحانہ اقدام کی صورت میں سخت جواب اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے خلاف حملوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ امریکا نے ایک سال قبل عالمی تجارتی راستوں میں مداخلت پر حوثیوں کو نشانہ بنایا تھا تاہم ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران حوثیوں نے نسبتاً محتاط طرزِ عمل اپنایا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ حوثیوں کے حالیہ اقدامات نے اس تاثر کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کی تازہ کارروائیاں انتہائی تشویش ناک ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سویلین جوہری معاہدے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کی منظوری اس شرط سے مشروط ہوگی کہ سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی اور یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال تک محدود رہے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر کئی ممالک کے پاس بھی سویلین جوہری پروگرام موجود ہیں جب کہ امریکا پرامن مقاصد کے لیے غیر افزودہ سویلین جوہری تنصیبات کی مخالفت نہیں کرتا۔




















