Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

تیل نے 100 ڈالر کی حد پار کر لی، دنیا بھر میں پیٹرول مزید مہنگا ہونے کا خطرہ

برطانیہ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہیں، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت جمعرات کو 6 فیصد سے زائد بڑھ گئی۔ حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں حالیہ تیزی اس وقت مزید بڑھی جب یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جس سے سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل اہم برآمدی راستے کو خطرات لاحق ہو گئے۔

دوسری جانب برطانیہ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ کے اختتام پر تقریباً 98 پنس فی تھرم رہنے والی قیمت بڑھ کر اب 150 پنس فی تھرم کے قریب پہنچ چکی ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی تاہم جنگ بندی ختم ہونے اور کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے بعد قیمتیں ایک بار پھر اوپر چلی گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کی قیادت کسی معاہدے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔

ماہرین معاشیات کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے سے دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً برطانیہ اور امریکا میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر پیٹرول اور ڈیزل پر پڑتا ہے جبکہ نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات کے باعث خوراک اور دیگر اشیائے صرف بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔

برطانیہ میں صرف ڈھائی ہفتوں کے دوران پیٹرول کی اوسط قیمت 5 پنس فی لیٹر بڑھ کر تقریباً 1.56 پاؤنڈ جبکہ ڈیزل 1.72 پاؤنڈ فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ ادھر امریکا میں بھی پٹرول کی اوسط قیمت دوبارہ 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش نے کانگریس کو بتایا ہے کہ مرکزی بینک بلند مہنگائی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شرح سود میں کمی کے حامی ہیں تاہم فیڈرل ریزرو نے اپنے حالیہ اجلاس میں شرح سود 3.5 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں