Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 11ویں روز بھی فضائی حملے؛ ایران کا بھرپور جواب

ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد امریکی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا

واشنگٹن: امریکا نے ایران پر مسلسل گیارہویں روز بھی فضائی حملے کیے جن میں متعدد فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے فوجی آپریشن مراکز، بحری تنصیبات، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹک انفرااسٹرکچر پر حملے کیے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔

امریکی فوج کے مطابق موجودہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے اور بحری نقل و حمل معمول کے مطابق جاری ہے۔

بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانے میں معاونت فراہم کی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران پر جاری فضائی کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید محدود کرنا اور خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ایران کا امریکی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے امریکا کو مزید سخت نتائج سے خبردار کردیا ہے۔

ایرانی خاتم الانبیاء بریگیڈ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر کسی بھی امریکی حملے سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تو خطے میں موجود امریکی مفادات اور اس کے اتحادی بھی ایرانی کارروائیوں کی زد میں آئیں گے۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ امریکی حملوں کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

ایرانی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ خبریں