Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایئرکنڈیشنر کے بغیر جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے آسان اور مؤثر طریقے

گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دن کے وقت موٹے پردے لگا کر دھوپ کو اندر آنے سے روکیں

شدید گرمی کے موسم میں ہر شخص کے لیے ایئر کنڈیشنر خریدنا یا اس کے بجلی کے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چند آسان مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اپنا کر جسم کو ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے اور گرمی کے مضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دینا سب سے اہم احتیاط ہے۔ دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا چاہیے اور باہر نکلتے وقت پانی کی بوتل ضرور ساتھ رکھنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ناریل کا پانی، لسی، گنے کا رس اور دیگر قدرتی مشروبات جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خالی پیٹ گھر سے باہر نہ نکلیں بلکہ کھیرا، انناس یا دیگر ہلکی غذا کھا کر نکلیں تاکہ جسم کو توانائی ملتی رہے۔ گرمی زیادہ محسوس ہونے پر ٹھنڈے پانی سے نہانا یا چہرے، ہاتھوں اور سر پر پانی ڈالنا بھی جسمانی درجہ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

گھر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے دن کے وقت موٹے پردے لگا کر دھوپ کو اندر آنے سے روکیں، پنکھے استعمال کریں اور ممکن ہو تو گھر کے نچلے یا زیادہ ہوا دار حصے میں وقت گزاریں۔

ٹھنڈی اور نم ہوا اندر لانے کی سمارٹ طریقوں میں سے ایک دروازوں پر تنکوں سے بنا ہوا پردہ لٹکانا ہے۔ جب اس پر پانی چھڑکا جاتا ہے تو یہ گرم ہوا کو ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میں بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں اس مقصد کے لیے ایک خاص قسم کی خوشبودار گھاس استعمال کی جاتی ہے جسے “خس” کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ باریک بانس سے بنے پردے بھی ہیں جو براہ راست دھوپ سے تحفظ فراہم کرتے ہیں – ٹھنڈک کے لیے اندر کی طرف ایک باریک گیلا کپڑا شامل کیا جاتا ہے۔ یا ایک بھاری اور نم کپڑا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سادہ کپڑے کا پردہ بھی کافی ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم نمی والے علاقوں میں ڈیزرٹ کولر (ایواپوریٹو کولر) ایئر کنڈیشنر کا کم خرچ متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پانی سے تر پیڈز کے ذریعے ہوا کو ٹھنڈا کر کے کمرے میں پہنچاتا ہے اور نسبتاً کم بجلی استعمال کرتا ہے۔

لباس کے حوالے سے ماہرین نے ہلکے، ڈھیلے اور سوتی یا کتان کے کپڑے پہننے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ یہ ہوا کی بہتر گردش ممکن بناتے ہیں۔ اسی طرح سر یا گردن کو کپڑے، دوپٹے یا گامچھے سے ڈھانپنے سے بھی دھوپ کے براہِ راست اثرات کم ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دوپہر کے گرم ترین اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے یا سخت جسمانی مشقت سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو حتی الامکان سائے میں رہیں کیونکہ براہِ راست دھوپ سے بچنے سے جسم کا درجہ حرارت نسبتاً کم رہتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ان آسان احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے نہ صرف شدید گرمی میں جسم کو ٹھنڈا رکھا جا سکتا ہے بلکہ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور گرمی سے پیدا ہونے والی دیگر طبی پیچیدگیوں سے بھی کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں