مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کی آواز فیصلہ ساز قومی اداروں تک پہنچنی چاہیے اور کشمیر کا فیصلہ پنجاب یا سندھ نہیں کشمیر خود کرے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا منشور کشمیری عوام کو بااختیار بنانا اور انہیں قومی سطح پر مؤثر نمائندگی دلانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی آواز پاکستان کے فیصلہ ساز اداروں میں ہونی چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی حاصل ہو تاکہ وہ اپنے حقوق کی آواز خود بلند کرسکیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حقِ حاکمیت کا مسئلہ صرف مہاجرین کی 12 نشستوں تک محدود نہیں بلکہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ نشستیں ان کی جیب میں ہیں تو وہ کشمیری عوام کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1947 سے آج تک آزاد کشمیر کے عوام کو صرف وعدے کیے جاتے رہے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ انہیں عملی حقوق دیے جائیں۔ اگر عوام انہیں دو تہائی اکثریت دیتے ہیں تو وہ آئینی ترمیم لاکر کشمیریوں کے ساتھ انصاف کریں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے ملک کی معاشی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان تاریخی معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب کہ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم نہ ہوئی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام ایسی حکومت نہیں چاہتے جو لوگوں سے روزگار چھین لے بلکہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے مسائل حل کرے۔
بلاول بھٹو نے حالیہ احتجاجی واقعات کے حوالے سے کہا کہ وفاقی حکومت کو ایک آزاد کمیشن قائم کرنا چاہیے جو حقائق کا تعین کرے۔ اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے اور اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ کمیشن کی رپورٹ آنے تک احتجاج مؤخر کردیں جب کہ ریاستی اداروں سے بھی درخواست کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی قسم کی کارروائی سے گریز کیا جائے۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں صرف چند علاقوں تک محدود سوچ رکھتی ہیں اور انہیں اندرون پنجاب کے عوام کے مسائل کا ادراک نہیں۔ چولستان، ڈی جی خان، راجن پور، وہاڑی اور بھکر جیسے علاقوں کو نظر انداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ قصور کو لاہور جیسا نہیں بناسکے، وہ گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر کی ترقی کے دعوے کیسے کرسکتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ترقی کے وعدے کرنے کے بجائے پہلے عملی کارکردگی دکھانی چاہیے تھی۔
بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کا منشور یہ ہے کہ آزاد کشمیر کا وزیراعظم خود آزاد کشمیر سے نہ ہو جب کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام خود کریں گے، نہ کہ پنجاب یا سندھ۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ آزاد کشمیر انتخابات تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہیں اور یہ صرف پیپلز پارٹی ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسا فیصلہ کریں جس سے آزاد کشمیر کے مسائل حل ہوں، عوام کے حقوق کا تحفظ ہو اور خطے کا مستقبل روشن بنایا جاسکے۔
بلاول بھٹو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر سطح پر کشمیری عوام کے حقوق، بااختیار نمائندگی اور ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔



















