چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان سے ان کا تعلق صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ نسلوں پر محیط ایک مضبوط رشتہ ہے، جو آئندہ بھی برقرار رہے گا۔
سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اپنے خطاب ملکی سیاست، معیشت، دفاع، خارجہ امور اور گلگت بلتستان کی ترقی سے متعلق تفصیلی موقف پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ بطور وزیر خارجہ مختلف ممالک کے دورے کرتے تھے تو وہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ایک ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور دوسرے ممالک اس نوعیت کے منصوبے اپنے ہاں نافذ کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے تھے۔ ان کے مطابق افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک میں بعض سیاسی جماعتیں ایسے فلاحی منصوبوں کو ختم کرنے کی سوچ رکھتی ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ترقی کا درست ماڈل وہ ہے جس میں غریب طبقہ اوپر آئے، نہ کہ صرف امیر طبقے کو مزید مضبوط کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر معاشی پالیسی صرف امیروں تک محدود رہے تو اس سے پورا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
خطاب میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ایران، لبنان اور فلسطین میں جاری کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلم دنیا اس وقت مختلف تنازعات کے معاشی اور انسانی اثرات کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے امن کی تمام کوششوں کی کامیابی کے لیے دعا بھی کی۔
بلاول بھٹو نے پاکستان کی دفاعی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایٹمی صلاحیت کا آغاز سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہوا جبکہ میزائل پروگرام کو آگے بڑھانے میں بے نظیر بھٹو کا کردار اہم رہا۔ ان کے مطابق یہ صلاحیت پاکستان کو خطے میں مضبوط دفاعی حیثیت فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے غیر ملکی اڈوں کی موجودگی پر تنقید کی اور سلالہ واقعے کے بعد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
گلگت بلتستان کے حوالے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ علاقے کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے اور اگر مقامی آبادی کو مکمل اختیارات دیے جائیں تو خطہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے 18ویں آئینی ترمیم کے ثمرات گلگت بلتستان تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے سندھ حکومت کے فلاحی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ دنیا کے بڑے ہاؤسنگ پروگرامز میں شامل ہے جبکہ سیلاب متاثرین کے لیے بنائے جانے والے گھروں کو محفوظ اور جدید معیار کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔ ان گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو دینے کی پالیسی کو بھی انہوں نے ایک اہم سماجی اصلاح قرار دیا۔
صحت کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرکاری اسپتالوں میں مفت اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو بیرون ملک جانے کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔
بجلی اور توانائی کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے اور مقامی سطح پر توانائی پیدا کر کے نہ صرف اپنی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں بلکہ اسے دیگر علاقوں کو بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے وسائل، فیصلوں اور ترقی پر مکمل اختیار ملنا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کر سکیں، اور یہی راستہ ملک کی مجموعی ترقی کی ضمانت ہے۔


















