اسلام آباد: اکبر نیازی ٹیچنگ اسپتال کے دورے کے دوران وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے صحت سہولت پروگرام کی بحالی کا اعلان کردیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ کئی سال سے بند صحت سہولت پروگرام کو وفاقی دارالحکومت میں دوبارہ شروع کردیا گیا ہے تاکہ عوام کو معیاری اور مفت علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اکبر نیازی ٹیچنگ اسپتال کے دورے اور صحت سہولت پروگرام (پرائم منسٹرز نیشنل ہیلتھ پروگرام) کے تحت فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے جائزے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل ہیلتھ پروگرام محمد ارشد قائم خانی اور گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر جی اے کے ہیلتھ کیئر انٹرنیشنل یاسر خان نیازی بھی موجود تھے۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر نے صحت سہولت پروگرام کے تحت زیر علاج مریضوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں پوچھا۔ مریضوں نے علاج، سہولیات اور اسپتال انتظامیہ کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ وفاقی وزیر نے بھی اسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات، سہولیات اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی آبادی 35 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اسلام آباد کے اسپتالوں میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، راولپنڈی اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے رش سے متعلق شکایات موصول ہوتی ہیں جب کہ نجی اسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
وزیر صحت نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی مفاد میں حکومت کی تجویز کو قبول کیا جس کے نتیجے میں کئی سال بعد صحت سہولت پروگرام کو دوبارہ فعال کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جڑواں شہروں کے 42 اسپتالوں میں صحت سہولت پروگرام کا آغاز کردیا گیا ہے، جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ یہ پروگرام اسلام آباد کی حدود میں نافذ العمل ہوگا۔
سید مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جاچکے ہیں جب کہ دو ارب روپے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران مریضوں کے علاج پر خرچ کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے تحت تمام معلومات اور اخراجات کا ریئل ٹائم ڈیٹا جمع کیا جارہا ہے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا خامی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کا مجموعی صحت بجٹ 1,156 ارب روپے ہے لیکن اس کے باوجود مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج کے حوالے سے ایک جامع مطالعہ کروایا گیا ہے جس کے مطابق تقریباً 210 ارب روپے کے وسائل سے صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں تاہم اس مقصد کے لیے ملک بھر میں تقریباً پانچ ہزار نئے اسپتال درکار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج مستقبل کا نظام ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک اس ماڈل پر پہلے ہی عمل پیرا ہیں۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ اگر کوئی اسپتال پروگرام کے تحت مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرے گا یا بدعنوانی میں ملوث پایا گیا تو اسے فوری طور پر پروگرام سے ڈی لسٹ کردیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔




















