خیبرپختونخوا کے علاقے حسن خیل میں خوارجیوں کے خلاف آپریشن کے دوران ایف سی کے 6 اہلکار وطن پر قربان ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کا خیبرپختونخوا کے علاقے حسن خیل میں فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام بنادیا گیا فیڈرل کانسٹیبلری کے 6 جوان بہادری سے لڑتے ہوئے مادر وطن پر قربان ہو گئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں آٹھ خوارجی دہشتگرد بھی جہنم واصل کردیئے گئے۔
شہید ہونے والے اہلکاروں میں نائیک عامرشہید، لانس نائیک محمد یوسف شہید، لانس نائیک محمد ریاض شہید، سپاہی اجمیر، احسان شہید اور ریاض شہید شامل ہیں شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی قوم بہادر سپوتوں کی اس عظیم قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
اس موقع پر وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد اور یکسو ہے۔
ذرائع کے مطابق حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کر رہا ہے دہشتگردوں کا حملہ واضح ثبوت ہے کہ فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان، افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی جانب متعدد بار افغان عبوری حکومت کی توجہ مبذول کرا چکا ہے افغانستان میں فتنہ الخوارج ( ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشتگرد عناصر کی موجودگی، ان کی سہولت کاری اور منصوبہ بندی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ حملے کو ناکام بنا کر سیکیورٹی فورسز نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں پرعزم ہے۔
آپریشن غضب للحق افغانستان میں موجود آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
















