Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستان میں ایڈز کے کیسز کیوں بڑھ رہے ہیں؟ وفاقی وزیر صحت نے وجوہات بیان کردیں

مصطفی کمال نے نائٹ پارٹیوں کو ایڈر کی بڑی وجہ قرار دے دیا۔

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے قومی اسمبلی اجلاس میں ملک میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف سماجی اور طبی عوامل اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کی رکن زہرہ ودود فاطمی نے بچوں میں ایڈز کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جس میں تونسہ، کراچی، لاڑکانہ اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں صورتحال پر سوالات اٹھائے گئے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق پاکستان میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں جب کہ سرکاری طور پر 80 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے تقریباً 60 ہزار مریض باقاعدگی سے علاج اور ادویات حاصل کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایڈز ایک قابلِ علاج مگر خطرناک بیماری ہے اور اس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں استعمال شدہ سرنجز کا دوبارہ استعمال ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کے لیے حکومت پانچ اقسام کی سرنجز پر پابندی لگانے پر غور کررہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے مزید کہا کہ نائٹ پارٹیوں میں منشیات کے استعمال اور غیر محتاط رویے کے باعث بھی یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بعض کیسز میں سیکس ورکرز کے ذریعے بھی وائرس کے پھیلاؤ کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

مصطفی کمال نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں بیرون ملک سے آنے والے بعض افراد بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا باعث بنتے رہے ہیں تاہم اب ایسے افراد کا ڈیٹا ایف آئی اے کو فوری فراہم کیا جاتا ہے اور ایئرپورٹس پر ان کی اسکریننگ کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ صحت کے معاملات پر بہتر تعاون جاری ہے تاکہ ایڈز سمیت دیگر بیماریوں پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جاسکے۔